اہل بیت نیوزایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی اقتصادی جنگ بھی بالآخر ناکامی سے دوچار ہوگی، جس طرح امریکی فوجی حملے ایران کو جھکانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
ملیحہ لودھی نے ایک مضمون میں لکھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر زیادہ سے زیادہ اقتصادی دباؤ ڈالنے کی کوشش کے نتائج الٹے بھی نکل سکتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی فوجی کارروائیوں نے یہ بھی ظاہر کر دیا ہے کہ واشنگٹن کے پاس ایران کے خلاف فوجی آپشنز محدود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کو ’’تاریخ کی سخت ترین پابندیاں‘‘ اور کسی بھی ملک کے خلاف ’’سب سے تباہ کن اقتصادی کارروائی‘‘ قرار دے کر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی، تاہم ایرانی قیادت نے ان دھمکیوں کے سامنے مزاحمت کا مؤقف اختیار کیا ہے۔
لودھی کے مطابق اقتصادی اقدامات کے اعلان کے ساتھ ہی واشنگٹن کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنے کے اشارے بھی سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر سے ایران کو مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ کرنے کی درخواست کی، جس کے بعد وہ ایرانی حکام سے بات چیت کے لیے تہران بھی گئے۔
سابق پاکستانی سفارت کار نے کہا کہ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ سخت بیانات کے باوجود واشنگٹن جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کی تلاش میں ہے، جبکہ امریکہ کے اندر بھی اس جنگ کی مخالفت موجود ہے۔
ملیحہ لودھی نے مزید کہا کہ امریکی اقتصادی مہم کی کامیابی بڑی حد تک دوسرے ممالک کے تعاون پر منحصر ہے، اور یہی امر پابندیوں پر مؤثر عمل درآمد کو مشکل بنا سکتا ہے۔ ان کے مطابق چین پہلے ہی یکطرفہ امریکی پابندیوں کی مخالفت کر چکا ہے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا اعلان کر چکا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ایران گزشتہ چار دہائیوں سے امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، اس کے باوجود اس نے اپنی اقتصادی اور سیاسی سرگرمیاں جاری رکھی ہیں۔ اس لیے یہ توقع کرنا حقیقت پسندانہ نہیں کہ طویل عرصے تک پابندیوں اور فوجی حملوں کا سامنا کرنے کے بعد ایران محض اقتصادی دباؤ کے نتیجے میں ہتھیار ڈال دے گا۔
لودھی کے مطابق ایران کے تجارتی شراکت دار بھی اپنے اقتصادی مفادات کو واشنگٹن کے ساتھ تعاون کی خاطر قربان کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے، خصوصاً وہ ممالک جو خطے کے توانائی کے وسائل تک رسائی کے لیے آبنائے ہرمز پر انحصار کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور خلیجی ممالک کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکہ کے درمیان مذاکرات بحال کرانے کی سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔ فریقین کے درمیان جاری غیر علانیہ رابطے اس بات کا اشارہ ہیں کہ سفارت کاری کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔
ملیحہ لودھی نے آخر میں کہا کہ ٹرمپ کی یہ امید کہ امریکی اقتصادی طاقت ایران کو شکست دے سکتی ہے، اسی طرح بے نتیجہ ثابت ہوگی جس طرح فوجی طاقت کے ذریعے ایران کو شکست دینے کی کوشش ناکام رہی۔
آپ کا تبصرہ